اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، اقوام متحدہ میں روسی وفاق کے مستقل مندوب واسیلی نیبنزیا نے ایران پر صہیونی جارحیت کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
جیسا کہ ہم جانتے ہیں 26 اکتور 2024 کو اسرائیل
نے امریکہ کے ساہھ ہم آہنگ ہو کر ایران کی فوجی تنصیبات پر حملہ کیا، اس حملے میں
ایران کے چار فوجی جان بحق ہوئے، اور اگر ایران کا ایئرڈیفنس سسٹم انتہائی کامیابی
سے مقابلہ نہ کرتا تو خاص طور پر بہت سارے نہتے شہریوں کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی
تھیں۔
بدقسمتی سے اس کشیدگی میں اضافے کے سلسلے میں اس
اسرائیلی اقدام کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی حکام نے ایران
پر حملے کی دھمکیاں دیتے رہے اور امریکہ اور اسرائیل کے اتحادیوں نے اسرائیل کو
بازرکھنے کی کوشش نہیں کی اور ایران پر حملے جیسے خطرناک اقدام کی حمایت کی۔
امریکہ اور اسرائیل کے اتحادیوں نے غیرذمہ داری
کا ثبوت دیا اور موجودگی کشیدگی کو کرنے کے بجائے اس کو مزید پھیلا دیا۔ امریکہ ایران
پر صہیونی حملے میں شریک تھا اور اس نے حملے کے لئے تل ابیب کو معلومات فراہم کیں۔
اسرائیل کو امریکہ کی طرف سے معلومات کی فراہمی
بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور مشرق وسطی کے نازک حالات کو مزید غیر
مستحکم کرتی ہے۔ ہم اسلامی جمہوریہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافے
سے فکرمند ہیں اور یہ مسئل خطے کی سلامتی کے لئے بہت خطرناک ہے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایران پر حملہ،
خطے کے ممالک پر، اسرائیل کا پہلا حملہ نہیں ہے بلکہ غزہ کی جنگ کے آغاز سے اب تک
اسرائیل نے شام اور لبنان کے شہروں کو بارہا نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیل نے حماس کے سیاسی
بیورو کے سربراہ اسماعیلی ہنیہ، حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ
اور اسرائیل مخالف راہنماؤں کو قتل کرنے کے بعد اب جنگ کو ایران کے اندر منتقل
کرنے کے عزائم رکھتا ہے۔
ایران بے مثال صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے
اور خطے میں امن کے قیام اور کشیدگی کے خاتمے کا خواہاں ہے لیکن اس کے برعکس،
اسرائیل جان بوجھ کر کشیدگی میں اضافہ کر رہا ہے۔ روس کو یقین ہے کہ اسرائیل یہ
تمام خطرناک اقدامات جنگ کا دائرہ وسیع تر کرنے کی غرض سے کر رہا ہے۔
اسرائیلی اقدامات کو رک جانا چاہئے اور ہم اسرائیل
سے چاہتے ہیں کہ خطے میں کشیدگی پھیلانے والے اقدامات سے پرہیز کرے، کیونکہ یہ
مسئلہ پورے خطے پر تباہ کن اثرات مرتب کرے گا۔ جبکہ غزہ کی جنگ کی وجہ سے علاقے کی
صورت حال نازک ہے۔
سلامتی کونسل کو مشرق وسطی میں نئی جنگ کا راستہ
روکنا چاہئے۔ اسرائیلی حکام غزہ میں جنگ بندی کے سلسلے میں بین الاقوامی برادری کے
مطالبات کو نظرانداز کر رہا ہے جو باعث تشویش ہے۔ اسرائیل موجودہ تمام جھگڑوں کو
طاقت استعمال کرکے حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور وہ [صہیونی] صرف امریکہ کی
مستقبل حمایت سے ہی اس طرح کی حرکتیں کر سکتے ہيں۔
امریکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے سلسلے میں
ہونے والے کسی بھی اقدام کو ناکام بنا رہا ہے اور پرامن حل کے تمام راستوں کو بند
کر رہا ہے۔ یقینی امر ہے کہ موجودہ کشیدگیوں کا اصل سبب غزہ میں عدم جنگ بندی ہے۔
حالانکہ جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد
کی ترسیل واحد راہ حل ہے۔
ہم امریکہ سے چاہتے ہیں کہ ذمہ دارانہ کردار ادا
کرے اور اقوام متحدہ کو اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے دے تاکہ وہ اپنی قرادادوں پر
عملدرآمد کرائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110